Uncategorized

’’رمضان میں نمازی بعد رمضان آزادی‘‘


’’رمضان میں نمازی بعد رمضان آزادی‘‘
شفیع احمد قاسمی خادم التدریس جامعہ ابن عباس احمد آباد
8090063071
نماز ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے، دین کا ایک مضبوط ستون ہے، جس کی زندگی میں نماز نہیں گویا اس نے دین کے ایک مضبوط ستون کو دھوست کر دیا ہے،اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے، کہ ساری عبادتوں کی فرضیت اسی سرزمین پر ہوئی لیکن فرضیت نماز کے لیے پروردگار عالم نے اپنے محبوب کو معراج پر آنے کی دعوت دی، وہاں اس کی فرضیت کا تحفہ عنایت فرمایا، نماز کو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کا ٹھنڈک بتلایا گیا، (نسائی شریف) مسلم اور کافر کے درمیان فرق پیدا کرنے والی چیز نماز ہے،۔( مسلم شریف ) بزرگوں نے نماز کو مومن کی معراج قرار دیا ہے، نماز کی اہمیت اس سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ وہ کسی حال معاف نہیں، چنانچہ جنگ جیسی سنگین حالت میں بھی قابل عفو نہیں، لشکر کو دو حصوں میں بانٹ کر باری باری نماز کی ادائیگی کا حکم ہے، نماز تو مریض کے لیے بھی معاف نہیں، چنانچہ اگر قیام کی استطاعت نہیں، تو بیٹھ کر پڑھنے کا حکم ہے، بیٹھنے کی قدرت نہیں، تو لیٹ کر ہی سہی نماز ادا کرنے کا مکلف بنایا گیا، اگر مسلمان مسافت شرعی کے سفر پر ہو تو بھی رباعیہ نماز دو رکعت پڑھنے کا حکم ہے،
معلوم ہوا نماز کسی طور ایک مسلمان کی زندگی سے الگ نہیں ہو سکتی، لیکن آج سوسائٹی کے کتنے لوگ نماز پڑھتے ہیں، پھر ان نماز پڑھنے والوں میں پنج وقتہ نمازی کتنے ہیں یعنی نماز کے پابند کتنے ہیں ؟ ماہ مبارک میں تو خدائی رحمتوں کی برسات تھی، جس سے سوسائٹی کی سوسائٹی نمازی بن جاتی ہے ،لیکن جوں ہی عید کا چاند دکھا، مسجد سونی ہو گئی، جیسے نماز سے آزادی کا اعلان ہو گیا،حالانکہ عید کا چاند درحقیقت روزے سے آزادی کا اعلان تھا، کہ آج سے 11 مہینے تک روزہ موقوف ہوگیا،
دین سے آزادی پر اکبر مرحوم نے بڑی عمدہ نکتہ آفرینی کی ہے، فرمایا ! آدم زاد اس وقت تک آزاد نہیں ہے جب تک اس کے درمیان سے دم نہ نکل جائے، *آ(دم) زاد* جب تک اس کے تن بدن میں سانس ہے تب تک وہ آزاد نہیں ہے،
*مالک کا بن کے رہنے میں عافیت ہے*
سانڈ کو تو دیکھا ہوگا سڑک پر وہ چلتا پھرتا ہے کبھی ادھر منہ مارتا ہے کبھی ادھر، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دو ڈنڈا ادھر لگا، دو لاٹھی ادھر رسید ہوئی، غرضیکہ وہ آزادی سے منہ مارتا ہے اور لوگ بھی پوری آزادی سے اس کی ٹھکائی کرتے ہیں اسے کوٹتے ہیں، اس کی پٹائی پر کوئی بولتا نہیں اس لیے کہ وہ آزاد ہے، لیکن اگر جانور کسی کا مملوک ہو، اس کے آنگن میں بندھا ہوا ہو، اس پر کوئی ترچھی نگاہ ڈال دے، اس پر بری نظر ڈال دے، تو مالک کو طیش آجاتا ہے، فوراً اس سے انتقام لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے،
یہ فرق صرف اس لیے ہے کہ وہ بندھا ہوا جانور اپنے مالک کا مطیع و فرمانبردار ہے، اس کے حکم کا تابعدار ہے اسی بنا پر مالک کو بھی اس سے پیار ہے، اسی طرح اگر بندہ اپنے مالک کے دائرۂ قانون میں رہ کر زندگی بسر کرتا ہے، مالک کی تابعداری کرتا ہے، اس کی قانون شکنی سے پرہیز کرتا ہے، آزاد نہیں بلکہ شریعت کے حدود میں زندگی گزارتا ہے، پھر اس بندے پر کوئی ترچھی نظر ڈال دے تو خدا کو غیرت آتی ہے، یہ میرا مملوک ہے میرا مطیع و فرمانبردار ہے، دریں صورت خدا اس سے انتقام لیتا ہے، اور قید شریعت سے آزاد ہو کر جو بندہ زندگی گزارتا ہے، تو خدا کو بھی اس درجہ اس کی پرواہ نہیں ہوتی ،
*بڑوں کی بات بڑی ہوتی ہے*
ایک دلچسپ واقعہ حضرت مولانا ابرار صاحب دھولیوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب فیض ابرارمیں لکھا ہے، کسی گاؤں میں ایک صاحب ثروت آدمی نماز میں کوتاہی کرتا تھا، وہ بڑا اثر رسوخ کا مالک تھا، ایک بزرگ سے کسی نے کہا کہ حضرت گاؤں کے فلاں صاحب اگر نمازی ہو جائیں ،تو سارا گاؤں نمازی بن جائیں ، بزرگ ان کے پاس پہنچے نماز کی دعوت دی نماز کی اہمیت و فضیلت بتائی، سننے کے بعد اس مالدار شخص نے کہا کہ حضرت آپ کی ساری باتیں درست ہیں لیکن مجھے فرصت نہیں ہے، حضرت نے فرمایا کہ بھائی آپ بیت الخلا جاتے ہیں، انہوں نے کہا بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے اس سے کس کو چھٹکارا ہے، پھر حضرت نے فرمایا کہ اچھا بات سمجھ آگئی کہ ’جناب کی مصروف زندگی میں بیت الخلاء جانے کا تو وقت ہے لیکن بیت اللہ (مسجد) میں آنے کا وقت نہیں‘ الخ جملہ مختصر ہے لیکن واقعی یہ دل کو چھو جانے والا جملہ ہے، خدا ہم سبھوں کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے،