Uncategorized

اسکول کی تعطیلات سے فایدہ اٹھائیں

*اسکول کی تعطیلات سے فایدہ اٹھائیں* 

 تحریر۔۔۔عالم فیضی

اسکولی تعطیلات بچوں میں خوشیاں فراہم کرتی ہے۔افراد خاندان سیر و تفریح اور یہاں وہاں جانے کے لیے مختلف پلاننگ کرتے ہیں۔بچوں کا رشتہ داروں میں گھومنے کا من ایک الگ ہی سماں پیدا کرتا ہے۔اب تو فی الحال سالانہ تعطیل ہونے والی ہے جو چھٹیوں کی سردار ہے۔یہ کوئی مختصر سی تعطیل نہیں ہوتی بلکہ ایک طویل تعطیل ہوتی ہے۔جس میں ہر عمر کے لوگوں کے بہت سارے کام انجام پاتے ہیں۔خصوصا شادی بیاہ بھی انھیں ایام میں زیادہ ہوا کرتے ہیں۔

اس تعطیل میں ہمارے سامنے بہت سارے چیلنجرز ہوتے ہیں۔کیوں کہ ان ایام میں گرمی پورے شباب پر ہوتی ہے اور دھوپ اتنی سخت جیسے لگتا ہو آسمان آگ برسا رہا ہے۔باہر دھوپ اور اندر گرمی یعنی ہر جگہ مشکل ہی مشکل۔ایسے وقت میں ہمیں اپنے بچوں کی نگہداشت اور حفاظت بھی ضروری ہوتی ہے۔اس لیے کہ پچپنہ بچوں کی گمشدہ جنت ہے وہ دھوپ کی پرواہ کیے بغیر کہیں بھی نکل سکتے ہیں،جس کا خمیازہ نہ چاہ کر بھی ہمیں ہی بھگتنا ہے۔ 

گلی محلے کے بچوں کا ارتکاز ہوتا ہے۔اس میں ہر طرح کے بچے شریف و شریر اور با اخلاق و بے اخلاق دونوں پائے جاتے ہیں۔ہمیں اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ اس پر بھی کڑی نگاہ رکھنی ہے۔اور محلے کے چنندہ اچھے بچوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی تلقین کرنی ہے تاکہ ان کی صحبت سے متاثر ہوکر ہمارا لڑکا بھی نیک اور صالح بنے،کیوں کہ صحبت کا اثر بچوں پر بہت زیادہ ہوا کرتا ہے۔جیسی ہم نشینی ہوگی ویسی ہی روش بچہ اختیار کرے گا۔

یہ موبائل کا دور ہے۔ چھوٹے بڑے ہر عمر کے لوگ اس سے ہمہ وقت چپکے رہتے ہیں۔بغیر موبائل کے نہ بڑوں کو چین ہے اور نہ ہی چھوٹوں کو سکون۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہوسکے بچوں کو موبائل سے دور رکھیں۔اور اگر انھیں بطور ٹائم پاس یا دل بستگی وغیرہ کے لیے تھوڑا بہت دے بھی رہے ہیں تو ان پر کڑی نگاہ رکھیں۔بچہ موبائل پر زیادہ کیا دیکھتا ہے،اس کا رجحان کدھر جارہا ہے۔کون سی ویب سائٹ استعمال کررہاہے۔وغیرہ وغیرہ۔تعطیل کے مد نظر ہمیں ان تمام باتوں کے لیے ایک ٹھوس اور مضبوط اصول و ضوابط کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچوں کا قیمتی وقت ضائع اور برباد نہ ہو۔ وقت اللہ تبارک و تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔مشہور مقولہ ہے”گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں“

آج ہماری اکثریت عصری تعلیم پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔جس بنا پر بچوں کے اندر دینی تعلیم سے واقفیت برائے نام ہوگئی ہے۔یہ سالانہ تعطیل ان بچوں کے لیے بے انتہا مفید اور کسی متاع گم گشتہ سے کم نہیں۔والدین اور سرپرست حضرات ان قیمتی ایام سے فایدہ اٹھائیں۔جہاں کہیں بھی دینی مجلس اور اسلامک سمر کلاس،تربیتی پروگرام اور عقائد کی درستگی کے لیے بزم سجائی گئی ہو پہلی فرصت میں وہاں بچوں کی موجودگی درج کرائیں۔ان کا داخلہ دلوائیں۔کیوں کہ دین کی مبادیات سیکھنے کا یہ بہت زریں موقع ہوا کرتا ہے۔جس میں ہمارے بچے عقائد کی درستگی کے ساتھ ساتھ،سیرت،طہارت،وضو،غسل اور نماز وغیرہ کی دعائیں سیکھنے کے ساتھ اس کا عملی طریقہ بھی سیکھ سکتے ہیں۔اس طرح ان کا وقت بھی ضائع نہیں ہوگا۔والدین کو سکون اوربچوں کو تعطیلات کا بھر پور فایدہ بھی۔